پیر 1 جون 2026 - 12:53
ملتِ تشیع پاکستان کی مختلف تنظیموں اور تشکلات کے مرکزی پلیٹ فارم کا وجود خوش آئند اور امید افزا ہے، آیت اللہ رمضانی

حوزہ / ایران کے شہر قم المقدسہ میں منعقدہ "شہیدِ اُمت تبلیغی کنونشن" میں اتحادِ ملت، دفاعِ تشیع اور مینارِ پاکستان اجتماع کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علمائے پاکستان قم المقدسہ کے زیر اہتمام "شہیدِ اُمت تبلیغی کنونشن" منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی مختلف ملی، دینی اور تبلیغی تنظیموں، جوامعِ روحانیت اور تشکلات کے نمائندگان نے شرکت کی۔

کنونشن میں عالمِ تشیع کو درپیش چیلنجز، عرب ممالک میں شیعیانِ اہل بیت (ع) پر ہونے والے مظالم، ماہِ محرم الحرام میں علماء و مبلغین کی ذمہ داریوں اور 13 جون 2026ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے عظیم الشان شیعہ اجتماع کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مجمع جہانی اہل بیتؑ، خیابان جمہوری قم المقدسہ کے کانفرنس ہال میں منعقدہ اس اجلاس میں جامع روحانیت خیبرپختونخوا، جامع روحانیت بلتستان، جامع روحانیت سندھ، جامع روحانیت گلگت، جامع روحانیت نگر اور جامع روحانیت بلوچستان کے نمائندگان نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حالات میں اتحادِ ملت اور منظم اجتماعی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان، تحریک بیداری پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نمائندگان نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

ملتِ تشیع پاکستان کی مختلف تنظیموں اور تشکلات کے مرکزی پلیٹ فارم کا وجود خوش آئند اور امید افزا ہے، آیت اللہ رمضانی

شرکاء نے بحرین میں شیعہ علماء اور دینی شخصیات کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں شیعہ شہریوں اور مقیم افراد کے اثاثے منجمد کرنے، ان کے معاشی حقوق سلب کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے اقدامات کی سخت مذمت کی گئی۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے، اسلامی تنظیمیں اور ذمہ دار بین الاقوامی فورمز ان اقدامات کا فوری نوٹس لیں اور مظلوم شیعہ برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

شرکاء نے متفقہ طور پر 13 جون 2026ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے شیعہ اجتماع کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور اسے ملتِ تشیع پاکستان کے اتحاد، بیداری اور قومی کردار کے اظہار کا اہم موقع قرار دیا۔

مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے دبیر آیت اللہ رمضانی نے اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ملتِ تشیع کی مختلف تنظیموں اور تشکلات کے درمیان ایک مرکزی اور ہم آہنگ پلیٹ فارم کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی اور مجمع علمائے پاکستان قم المقدسہ کی صورت میں اس ضرورت کو عملی شکل ملنا خوش آئند اور امید افزا پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا: جس طرح رسول اکرم ﷺ، ائمہ اہل بیت علیہم السلام، امام خمینیؒ اور عصر حاضر کے مجاہد قائدین نے جاہلیت، ظلم اور فکری انحرافات کے خلاف جدوجہد کی، آج بھی امتِ مسلمہ کو اسی بصیرت اور استقامت کے ساتھ میدان میں موجود رہنے کی ضرورت ہے۔

ملتِ تشیع پاکستان کی مختلف تنظیموں اور تشکلات کے مرکزی پلیٹ فارم کا وجود خوش آئند اور امید افزا ہے، آیت اللہ رمضانی

آیت اللہ رمضانی نے کہا: برصغیر میں فرقہ واریت اور اسلام دشمن سرگرمیوں کے پس منظر میں استعماری قوتوں کا کردار ایک تاریخی حقیقت ہے، تاہم آج مکتبِ اہل بیتؑ فکری، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں ایک مؤثر اور باعزت مقام پر فائز ہے۔

انہوں نے اختلافِ رائے کو ایک فطری امر قرار دیتے ہوئے کہا: اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دشمن عناصر ان اختلافات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ ان کے بقول برصغیر میں محبتِ اہل بیتؑ وہ مشترک محور ہے جو امتِ مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے اس اجتماع کو محض ایک رسمی نشست کے بجائے ایک راہبردی اور مستقبل ساز اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مختلف دینی و ملی قوتوں کے درمیان یہ تعاون ملتِ تشیع کے اجتماعی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کنونشن کے اختتام پر شرکاء نے اتحادِ ملت، دفاعِ مظلومانِ عالم، فروغِ فکرِ اہل بیتؑ اور پاکستان بھر میں جاری دینی و تبلیغی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha